نئی دہلی29جنوری(ایس او نیوز/آئی این ایس انڈیا)دہلی ہائی کورٹ نے تبصرہ کیا ہے کہ ہندو قانون کے تحت شادی ایک ”پوتربندھن“ہے اورایک معاہدہ نہیں ہے،جس میں ایک دستاویز کو عمل میں لا کر داخل کیا جا سکتا ہے۔عدالت نے یہ تبصرہ ایک خاتون کی اس درخواست کو مسترد کرتے ہوئے کیا جس نے اسے قانونی طور پر شادی شدہ بیوی اعلان کرنے سے انکار کرنے والے ایک حکم کو چیلنج کیا تھا۔خاتون نے عدالت میں عرضی دائر کرکے اپنے مبینہ شوہر کی موت کے بعد شفقت کی بنیاد پر کام پر تقرری کی مانگ کی تھی۔اس کا شوہر شہر کے ایک سرکاری ہسپتال میں صفائی ملازم تھا۔اس نے میڈیکل سپرنٹنڈنٹ کو اسے ڈیوٹی کرنے کی اجازت دینے کی ہدایات دینے کی مانگ کی تھی۔ہائی کورٹ نے اپنے حکم میں کہا ہے کہ درخواست گزار نے دلیل دی ہے کہ اس نے جون 1990میں شادی سے متعلق دستاویزات کے ذریعہ اس حقیقت پر سوال اٹھائے بغیر شخص سے شادی کی کہ وہ اس وقت اپنی پہلی بیوی کے ساتھ رہ رہا تھا جس کا مئی 1994میں انتقال ہو گیا۔جسٹس پرتیبھا رانی نے کہا کہ اپیل کنندہ(خاتون)کی دلیل تھی کہ اس نے دو جون 1990کو ایک ازدواجی دستاویزات اور ایک حلف نامے کے ذریعے شخص سے شادی کی۔اس نے اس بات پر کوئی سوال نہیں کیا کہ دو جون 1990کو اس شخص کی بیوی اس کے ساتھ رہ رہی تھی اور 11مئی 1994کو اس کی موت ہوئی۔انہوں نے کہا کہ ہندو قانون کے تحت شادی ایک پوتر بندھن(مقدس عہد)ہے اور یہ کوئی معاہدہ نہیں ہے جس میں شادی سے متعلق کسی دستاویز پر عمل کے ذریعے داخل کیا جا سکتا ہے،دو جون 1990کو آدمی کی بیوی زندہ تھی۔ہائی کورٹ نے کہا کہ نچلی عدالت نے صحیح کہا ہے کہ خاتون مبینہ شادی کی بنیاد پر شخص کی جائز شادی شدہ بیوی کی حیثیت کا دعوی نہیں کر سکتی ہے اور اس کے حکم کو غیر قانونی نہیں ٹھہرایا جا سکتا ہے۔